نئی دہلی،12؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) مودی سرکار سے سڑک پر لوہا لینے کے ساتھ ہی کسان متنازع زرعی قوانین کے خلاف سپریم کورٹ بھی پہنچ گئے ہیں ۔ عدالت سے ان قوانین کو کالعدم قراردینے کی اپیل کرتےہوئے بھارتیہ کسان یونین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قوانین کسانوں کو کارپوریٹ کمپنیوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں گے۔
سپریم کورٹ میں پٹیشن: بھارتیہ کسان یونین نے ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ تروچی سیوا کی اس پٹیشن میں فریق بننے کی عرضی داخل کی ہے جس میں مذکورہ قوانین کو چیلنج کیاگیاہے۔بھارتیہ کسان یونین کے مطابق اس کے صدربھانو پرتاپ سنگھ کومدعاعلیہ / حکومت کے سامنے تمام معاملات رکھنے کے بعد بھی موافق جواب نہیں ملا جس کی وجہ سے وہ فوری طور پر پٹیشن فائل کرنے پر مجبور ہیں ۔
قانون بھکمری کا بھی سبب بن سکتے ہیں: تینوں قوانین کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں داخل کی گئی عرضی میں کہاگیا ہے کہ یہ قوانین ’’غیر قانونی اور من مانی‘‘ پر مبنی ہیں جو’’زرعی پیداوار کی من مانی قیمت بڑھانے کیلئے گٹھ جوڑ اور ان کی سودے بازی کی راہ ہموار کریں گے۔اگر ان قوانین کو باقی رہنے دیاگیاتو ہم اپنے پورے ملک کو تباہ کرلیں گے کیوں کہ کارپوریٹ بلا کسی ضابطے کے ایک جھٹکے میں تمام زرعی پیداوار کو برآمد کرنے کے اہل ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں بھکمری کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔‘‘ پٹیشن میں مزید کہاگیا ہے کہ یہ قوانین اسلئے بھی غیر آئینی ہیں کہ یہ کسانوں کو ’’کثیر ملکی کمپنیوں کی لالچ‘‘ کے رحم وکرم پر چھوڑدیں گے اور کسانوں کو پیداوار کی مناسب قیمت دینے کیلئے بنائے گئے اے پی ایم سی نظام کے خاتمے کاسبب بنیں گے۔
آج مظاہرے میں شدت کا امکان: اس بیچ سنیچر کو کسانوں کی جانب سے مظاہرہ میں شدت آنے کا بھی امکان ہے کیوں کہ ۱۲؍ دسمبر سے انہوں نے ایک ایک کرکے دہلی کی تمام سڑکیں بند کردینے کی دھمکی دی ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے مودی سرکار سے براہ راست لوہا لیتے ہوئے پورے ملک میں سنیچر کو ٹول پلازہ مفت کردینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ۱۴؍ دسمبر کو کسان تنظیموں کی جانب سے شمالی ہند کے کسانوں کیلئے نئے سرے سے ’’چلو دہلی‘‘ کا نعرہ دیاہے۔ جنوبی ہند کے کسانوں کوسے اپنے اپنے شہروں میں احتجاج کی اپیل کی گئی ہے۔جمعہ کو کسانوں نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ سنیچر 12؍ دسمبر کو جے پور دہلی ہائی وے جام کیا جائےگا اور 14؍ دسمبر کو ملک بھر میں ضلع کلکٹر کے دفاتر کا گھیراؤ کیا جائےگا۔